آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان .....(قسط نمبر1)
آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان .....(قسط نمبر1)
1...بیراپجاری سے میری ملاقات جس طرح ہوئی،وہ بجائے خود ایک دلچسپ واقعہ ہے جسے اتنے عرصے بعد یاد کرتا ہوں.تو ہنسی آجاتی ہے,میری اس کی یہ ملاقات بعدازاں گہری دوستی میں بدل گئی اور کئی برس تک ہم دونوں ایک ساتھ جنگلوں میں پھرتے رہے۔مجھے اپنی شکاری،بلکہ”جنگلی زندگی“میں یوں تو سینکڑوں عجیب عجیب آدمیوں سے ملنے کا اتفاق ہوا. لیکن بیراپجاری کا جواب نہیں۔میں نے ایک لنگوٹی کے سوا اس کے دبلے پتلے...ہڈیاں نکلے ہوئے جسم پر کبھی کپڑا نہیں دیکھا۔ پستہ قد، منڈا ہوا سر.چھوٹی چھوٹی دھنسی ہوئی زرد آنکھیں اور نہایت مسکین چہرہ جسے دیکھتے ہی سنگ دل سے سنگ دل آدمی بھی ایک مرتبہ نرم پڑ جائے اور چہرے سے زیادہ اس کی شیریں آواز اور عجز و خوشامد کا اظہار کرتا ہوا لہجہ دوسروں پر فوراً اثر کرتا تھا۔اپنے ان دو فطری ہتھیاروں سے بیراپجاری نے جتنا فائدہ اٹھایا، اس کی مثال مشکل ہی سے ملے گی۔ ان صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اس میں عیاری، مکاری. دور اندیشی اور برجستہ جھوٹ بول کر دوسروں کو بیوقوف بنانے کی ”خوبیاں“بھی موجود تھیں۔وہ اپنے آپ کو اونچی ذات کا برہمن کہتا، اپنے علاقے اور برادری کے لوگوں پر بھی اس کا خاصا اثر تھا
2...میں اس زمانے میں میسور کے جنگلوں میں گھوم رہا تھا۔ ماتھر مالیا کی پہاڑی کے دامن میں ایک چھوٹا سا بنگلہ سرکاری افسروں کے قیام کے لیے حکومت نے بنوا دیا تھا۔ اس بنگلے سے کچھ فاصلے پر چنار ندی بہتی تھی جو ہوجی نیکل کے مقام پر دریائے کاویری میں مل جاتی تھی۔ مبں جب یہاں آیا، تو گرمیوں کا موسم تھا اور چنارندی تقریباً خشک پڑی تھی۔ایک روز سورج نکلنے سے کچھ دیر پہلے جنگل کی سیر کو نکلا۔ سیر کا فقط بہانہ تھا:
3...میں مناظر فطرت کا عاشق ہوں،جنگلوں ،پہاڑوں اور وادیوں میں تن تنہا گھومنے سے فرحت و انبساط اور سرور کی جو کیفیت طاری ہوتی ہے،وہ شہروں اور بستیوں میں نصیب نہیں ہو سکتی۔چنارکے کنارے سنہری ریت پر ٹہلتا اور جنگلی پرندوں کے نغموں سے مسحور ہوتا ہوا آہستہ آہستہ چلا جارہا تھا, رائفل میرے کندھے پرلٹکی ہوئی تھی اور اسے میں اس لیے ساتھ لایا تھا کہ اس وقت اکثر کسی ریچ یا چیتے کا سامنا ہو جاتا ہے۔یہ دونوں جانور رات بھر شکار کی تلاش پھرتے رہتے ہیںاور صبح صادق کے وقت اپنے اپنے غاروں کی طرف تھکے ماندے لوٹتے ہیں۔بعض اوقات ندیوں اور دریاﺅں کےکنارے اگی ہوئی ڈھاکہ انکوائری میں بھی چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں اورپیاس بجھاناکے لیے صبح صبح ندی پر آنے والے ہرنوں کا شکار کر لیتے ہیں۔اس روز میں نے کئی چیتل ہرن ندی کے اندر پانی کی تلاش میں پھرتے ہوئے دیکھے، مگر فائر نہ کیا۔ ان معصوم جانوروں کو مار کر مجھے کبھی خوشی محسوس نہیں ہوتی۔
4...میں بنگلے سے ایک میل دور نکل آیا۔ مشرقی افق کی طرف سے ابھرنے والی روشنی اندھیرے کی دبیز چادر چیرتی ہوئی تیزی سے جنگل میں پھیل رہی تھی اور ہوا کے سرو جھونکے آہستہ آہستہ گرم ہو رہے تھے تاہم جنگل کے اندرونی حصے میں اب بھی گہرا اندھیرا اور خاصی ٹھنڈ تھی۔ دفعتہً میری بائیں جانب حنا کی جھاڑیوں میں سے ایک جنگلی مورچیختا ہوا اڑا۔ میں ٹھٹھک کر اپنی جگہ رک گیا اور کان لگا کر کچھ سننے کی کوشش کرنے لگا۔ عرصہ درواز تک جنگلوں میں پھرنے کے باعث میری چھٹی حس فوراً بیدارہو کر کام شروع کر دیتی ہے۔مجھے خیال ہوا کہ ان جھاڑیوں میں یا آس پاس کوئی درندہ چھپا ہوا ہے۔میں ٹارچ لانا بھول گیا تھا، ورنہ اس کی مدد سے پتہ چل جاتا کہ معاملہ کیا ہے۔چند منٹ انتظار کرنے کے بعد آہٹ پیدا کیے بغیر آگے بڑھا اور جھاڑی کے قریب پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ریتلی زمین میں تین فٹ قطر کا ایک چھوٹا سا گڑھا کھدا ہوا ہے جس میں تھوڑا سا پانی جمع ہے
5...میں سمجھ گیا کہ یہ کسی ایسے شخص کی شرارت ہے جو جنگل میں.ناجائز شکارکھیلتا ہے,.ان دنوں میسور کے جنگلوں میں چھوٹے جانوروں کے شکارپر سخت پابندی عائد تھی اور کوئی شکاری حکومت سے لائسنس لیے بغیر ان کو ہلاک نہیں کر سکتا تھا لیکن اس ممانعت کے باوجود مقامی لوگ ندی پر آنے والے ہرنوں اور سانبھروں کو طرح طرح کے پھندوں سے زندہ یا مردہ پکڑ لینے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ یہ گڑھا بھی پیاسے ہرن کو پانی کا لالچ دے کر پھانسے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ میں اس شخص کو پکڑنے کی تدبیریں سوچنے لگا۔ وہ یقیناً قریب ہی چھپا ہوا تھا۔ کوئی پندرہ منٹ بعد کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ہرن ندی کی طرف بھاگتا ہوا ادھر آیا اور پانی دیکھ کر گڑھے میں منہ ڈال دیا فوراً ہی ایک جانب سے ایم ایل منرل لوڈنگ بندوق سے کسی نے فائر کیا۔گولی ہرن کی گردن میں لگی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا
Ads go here
Comments